بغداد،2جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایک مصروف چوک میں کار بم دھماکہ ہوا ہے جس سے کم از کم 35افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔شہر کے شیعہ علاقے صدر میں ہونے والے اس دھماکے میں کم از کم 61افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔فی الحال کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ماضی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اس قسم کے حملے کرتی رہی ہے۔ہفتے کو بغداد ہی میں دو خودکش حملے ہوئے تھے جن میں 28لوگ مارے گئے تھے اور دولتِ اسلامیہ نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔دولتِ اسلامیہ کی نیوز ایجنسی اعماق نے کہا تھا کہ اس حملے کا نشانہ شیعہ تھے، جنھیں وہ منحرف قرار دیتے ہیں۔پیر کے روز ہونے والے اس حملے کا نشانہ بظاہر وہ مزدور ہیں جو صدر کے علاقے میں کام کا انتظار کر رہے تھے۔اس حملے میں تین پولیس اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند بغداد کے قریب عراق کی انسدادِ دہشت گردی کی اکیڈمی کا دورہ کر رہے ہیں۔
فرانسوا اولاند نے عراق میں تعینات فرانسیسی فوجیوں کو بتایا کہ وہ یہاں دولتِ اسلامیہ سے لڑ کر فرانس کو حملوں سے بچا رہے ہیں۔انھوں نے وہاں تعینات فرانسیسی فوجیوں کو بتایا کہ وہ یہاں دولتِ اسلامیہ سے لڑ کر فرانس کو حملوں سے بچا رہے ہیں۔بعد ازاں اولاند کردستان کے علاقے میں جا کر دولتِ اسلامیہ سے برسرِ پیکار فرانسیسی اہلکاروں سے ملاقات کریں گے جو عراقی سرکاری فوجی کی تربیت کر رہے ہیں۔پیر ہی کو دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے بیجی شہر کے قریب فوجی بیرک پر حملہ کیا، جس میں خبررساں ادارے کے مطابق چار فوجی ہلاک ہو گئے۔